مقبوضہ کشمیر میں تشدد کی نئی لہر


مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج معصوم کشمیریوں کے خون سے مسلسل کھیل رہی ہے۔ظلم و تشدد کی تازہ لہر شوپیاں اور چھتہ بل کے علاقوں میں اٹھی جہاں سرچ آپریشن کے بہانے پندرہ نوجوان کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔ جس کے بعد وادی ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کے احتجاج سے خون رنگ ہوگئی ہے۔ شہداء4 کی صف میں شامل ہونے والوں میں ایک نوجوان پی ایچ ڈی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر رفیق بٹ بھی ہیں۔وہ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات سے وابستہ تھے اور بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کے خلاف آواز بلند کرتے رہتے تھے۔ ان کے دل میں روشن آزادی کی شمع کو بجھانے کے لیے بھارتی فوج کئی دنوں سے ان کے تعاقب میں تھی۔خطرے کو بھانپتے ہوئے وہ 5مئی کو روپوش ہوئے تاہم اگلے ہی روز انہیں چار ساتھیوں سمیت بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ کشمیری عوام بھارتی فوج کے جبرو استبداد کے خلاف گزشتہ ستر سال سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ آزادی کی تمنا دل میں بسائے انہوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ جس طرح ان کے بزرگوں نے جرات و بہادری سے جذبہ حریت کو زندہ رکھااوراپنی جان کی قربانی پیش کی، آج کشمیریوں کی تیسری نسل ان کے نقش قدم پر بھارتی فوج کے خلاف بلا خوف خطر ڈٹی ہوئی ہے۔ وادی میں برہان وانی جیسے بہادر بیٹے پیدا ہورہے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹوں کو شہادت کا جام پینے کی لوریاں سناتے ہوئے انہیں پروان چڑھاتی ہیں۔ہر اک دل میں آزادی یا شہادت موجزن ہے۔ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوج اور نیم فوجی دستے ظلم و تشدد کا ہر حربہ آزمانے کے باجود کشمیریوں کے دل سے یہ جذبہ حریت ختم کرنے میں ناکام و نامراد ہیں۔ کیمیائی ہتھیاروں، پیلٹ گنوں کا استعمال ، بدترین تشدد اور موت ان کے راستے کا پتھر نہیں بن سکے۔ بھارتی حکومت کی تمام تر مکاری، نام نہاد جمہوریت، رام رام کی پالیسی بھی انہیں اپنے مشن سے دورنہیں کر سکی۔ ان کی تمنا صرف آزادی، آزادی اور آزادی ہے جس کے حصول تک کوئی بھی حربہ ان کے حوصلوں اور ولولوں کو شکست نہیں دے سکتا۔پروفیسر ڈاکٹر رفیق بٹ اور ان کے ساتھی ایسے ہی عزم کی تازہ مثال ہیں۔ انہوں نے موت کو تو گلے لگا لیا مگراپنے دل میں روشن حریت کی شمع کو بجھنے نہ دیا۔یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارتی فوج کی ان ظالمانہ کارروائیوں کا اقوام متحدہ سمیت کوئی بھی ادارہ سنجیدگی سے نوٹس نہیں لے رہا۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں کئی عشروں سے التواء4 کا شکار ہیں۔ عالمی طاقتوں کا اس مسئلے سے آنکھیں چرانا قابل مذمت ہے۔صرف پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کے حوالے سے اپنی آواز بلند کررہا ہے اور حق خودارادیت کے حوالے سے ان کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔گوکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عام افراد کشمیریوں کی حمایت اور ان سے اظہار یکجہتی کے لئے اپنی آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں مگر افسوس ان کی حکومتیں اس حوالے سے بے حسی کا شکار ہیں۔دنیا کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ آزادی کشمیریوں کا بنیادی حق ہے اور اس مسئلے کو حل کئے بغیر دوایٹمی طاقتوں کے تعلقات نارمل ہوسکتے ہیں نہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے۔
جموں و کشمیرکے تنازعے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان دوجنگیں ہوچکی ہیں۔ متعدد مرتبہ دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ کر واپس لوٹے ہیں اور آئندہ بھی کسی وقت یہ کشیدگی ایٹمی تصادم کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پربھی بلا اشتعال فائرنگ جاری رہتی ہے۔جس کی وجہ سے یہاں آباد شہری شد یدخطرات کا شکارہیں۔ سینکڑوں معصوم افراد شہیدو زخمی ہوچکے ہیں اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے ڈی جی ملٹری اپریشن نے ہاٹ لائن رابطے کے دوران اسی مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ بھارت سیز فائرلائن کی پابندی کرے۔ اس کی جانب سے غیرپیشہ ورانہ اور غیراخلاقی اقدامات امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔اس صورتحال میں عالمی برادری خاص طورپر اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی ظلم و تشددکا نوٹس لے اور یواین قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے فوری اور پائیدار حل کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ دنیا میں پائیدار امن کے خواب کی عملی تعبیر ممکن ہوسکے۔