پیٹ تواپنا ہے


وہ والد صاحب کے انتہائی قریبی یعنی لنگوٹیے دوست تھے اور شہر میں ایک بڑے ہوٹل کے مالک تھے مصروفیات کی بنا پر کافی عرصہ سے ان کی والد صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ایک دن والد صاحب ضروری کام کے سلسلے میں اپنے ایک دوسرے دوست کے ہمراہ انہیں ہوٹل میں ملنے گئے سلام دعا کے بعدانہوں نے والد صاحب کو کھانے کی آفر کی جو انہیں اپنے دوست کی خاطر قبول کرنا پڑی چند ہی لمحوں میں آفس میں کھانا آگیا جب سب کھانا کھا نے لگے تو والد صاحب نے اپنے ہوٹل والے دوست کو بھی کھانے کے لیے کہا انہوں نے قریب پڑا ہوا لنچ بکس اٹھا یا اور بتایا کہ ہوٹل کا کھانا انہیں پرابلم کرتا ہے لہذا وہ ااپنا کھانا گھر سے لے کر آتے ہیں پھر کافی دیرتک ہنسی مذاق ہوتا رہا اور بات آئی گئی ہوگئی والد صاحب تو پہلے ہی باہر کے کھانوں سے کافی احتیاط کرتے ہیں اور گھر میں بھی سب کوباہر کے کھانوں سے احتیاط ہی ہدایت کرتے ہیں اکثر اوقات توا نہیں ایک دن میں تین تین شادیوں کے بھی دعوت نامے ملتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ کھانا گھر سے کھا کر جاتے ہیں اگر کوئی کسی دعوت میں بہت زیادہ اصرار کرے تو زیادہ سے زیادہ چند لقمے اورپانی کے دو گھونٹ لے لیتے ہیں اگر چہ ان کی صحت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کافی اچھی ہے لیکن پھر بھی ان کا یہی کہنا ہے کہ جتنی زیادہ احتیاط کرلی جائے اتنا ہی اچھا ہے یہ باہر کے کھانے، دعوتوں کے کھانے، شادی بیاہ کے کھانے اور ہوٹلوں وغیرہ کے کھانوں سے بہتر ہے کہ انسان صبر کرلے یا پھر کوئی پھل وغیرہ کھالے آجکل ہوٹلوں کے حالات تو سب کو معلوم ہیں آپ جتنے مرضی بڑے ہوٹل میں چلے جائیں ہر جگہ پیسے 
بچانے کیلئے وہ ناقص گھی کا استعمال کرتے ہیں اور کھانوں میں ڈالے گئے مرچ مصالحے بھی اصلی نہیں بلکہ ملاوٹ شدہ ہوتے ہیں جس معاشرے میں عام آدمی کو خالص چیزیں میسر نہیں وہاں بھلا یہ ہوٹلوں والے کہاں خالص چیزیں ڈھونڈتے ہوں گے انہوں نے تو اپنی لاگت کم کرنی ہوتی ہے لہذا جہاں سے سستی چیز ملتی ہے وہ خرید لیتے ہیں بعض ہوٹل والے تو صبح منڈیوں سے وہ سبزیاں خریدتے ہیں جو آخر میں گلی سڑی یا خراب ہونے کی وجہ سے بچ جاتی ہیں لہذا پیسے بچانے کی خاطر ہوٹل والے بہت سستے داموں انہیں خرید کر لے جاتے ہیں اس کے علاوہ وہاں استعمال ہونے والا گوشت بھی انتہائی غیر معیاری ہوتا ہے ہوٹل والے پیسے بچانے کے لیے قریب المرگ یا پھر بیمار جانور خرید لیتے ہیں پتا نہیں اس سارے عمل میں انہیں کتنی بچت ہوتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ جو بھی وہاں کھانا کھاتا ہے وہ مستقل ڈاکٹروں کا گاہک ضرور بن جاتا ہے یہاں مریض اس لیے نہیں کہاگیا کہ مریض وہ ہوتا ہے جو اچانک بیمار ہو جائے جو لوگ خود بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں وہ مریض نہیں بلکہ ڈاکٹروں کے گاہک ہوتے ہیں ہم سارا دن جو سلوک اپنے معدے کے ساتھ کرتے ہیں اس کا نتیجہ ایک نہ ایک وقت تو نکلنا ہی ہے یہ سب کچھ صرف اسی وجہ سے ہے کہ ہم گھر میں کھانا کھانے کی بجائے ادھر ادھر سے مضر صحت اشیاء کا اپنے آپ کو عادی بنا لیتے ہیں ہم وقت پر کھانا کھانے کی بجائے اپنے آپ کو بے وقت کھانوں کا عادی بنا لیتے ہیں اور یوں ہم ہمہ اقسام کی بیماریوں کا شکار ہو کر ڈاکٹروں کے گاہک بن جاتے ہیں بعض لوگ تو شادی یا پھر کسی کھانے کی دعوت کا دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد سارا دن کچھ نہیں کھاتے اور دعوت پر یوں اٹیک کرتے ہیں جیسے وہ پیٹ جس کو وہ زحمت دے رہے ہوتے ہیں وہ ان کا اپنا نہیں ہوتا معلوم نہیں کہ وہ کتنے دن بھوکے رہے یا پھر کتنے دن کا کھانا ایڈوانس ہی پیٹ میں ذخیرہ کرنا چاہتے ہیں یہ اب کوئی اکا دکا کیس نہیں رہے بلکہ آپ کو ہر دعوت پراس طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑے گا یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام کی نمائندگی کرنے والے بہت سارے مولوی حضرات بھی کھانوں کی وجہ سے ہی مشہور ہیں اسلام میں ہمیں کھانے پینے کے آداب واضح طور پر بتائے گئے ہیں احادیث کے حوالہ جات ،حکیم لقمان کی نصیحتیں ،کھانے کے حوالے سے ہمیں دینی طور پر بھی اور تاریخی طور پر بھی مکمل ضابطہ حیات ملتا ہے مگر اس کے باوجود جتنا ظلم ہم اپنے پیٹ کے ساتھ کرتے ہیں شاید ہی کوئی اور قوم کرتی ہو انتہائی امیر آدمی سے لیکر غریب آدمی تک سب نے اسے اپنی عادت بنا لیا ہے 
غریب آدمی بھی پہلے گھر سے اپنا کھانا ساتھ لے کر جاتا تھا اب وہ بھی اس بے احتیاطی کے کلچر کا حصہ بن گیا ہے اگر ہم کبھی باہر والے کھانے کو تیا ر ہوتا ہوا دیکھ لیں تو شاید پھر زندگی بھرہوٹلوں کا رخ نہ کریں وہاں صفائی کا تو بالکل ہی انتظام نہیں ہوتا کیڑے مکوڑے ،مکھیاں و دیگرحشرات الارض اس کھانے کا باقاعدہ حصہ بن جاتے ہیں برتن بھی بار بار اسی طرح گندے استعمال ہوتے ہیں گندا پانی بار بار استعمال کیا جاتا ہے گٹروں کے ڈھکن کھلے ہوتے ہیں اور سیوریج بھی ساتھ ہی بہ رہا ہوتا ہے کھانا پکا نے والوں کے اپنے حلیے اس طرح سے ہوتے ہیں جیسے وہ برسوں سے نہ نہائے ہوں ،ان کا پسینہ کھانے میں گر رہا ہوتا ہے، وہ بار بار گندے ہاتھو ں سے کھانے کو ٹچ کرتے رہتے ہیں، اسی طرح جسم پر خارش کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ واش روم کے استعمال کے بعد بھی ہاتھ نہیں دھوتے ان سب چیزوں کا وہ اتنا عادی ہوتے ہیں کہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کوئی غلط کام کررہے ہیں انہیں یا تو اپنی مزدوری سے غرض ہوتی ہے یا پھر منافع سے اگر ہم یوں ہی رہے تو ہمارے ملک میں شاپنگ پلازے کی جگہ مزید ہسپتال تعمیرہوتے رہیں گے دکانوں کی جگہ پر کلینک کھلیں گے اور لوگ پھل ،سبزیاں،دالیں ،گوشت اور صحت افزا کھانوں کی بجائے میڈیکل سٹوروں کا رخ کرکے ادویات پر پیسے ضائع کرتے رہیں گے امیر ہو یا غریب ،بادشاہ ہو یا فقیر صحت پیسوں سے نہیں ملتی بلکہ صرف احتیاط سے ہی ملتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں راہِ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!۔