!!سوال۔۔۔


گزشتہ چند ماہ سے معصوم بچے بچیوں کے ساتھ بد سلوکی و عصمت دری کے جو افسوس ناک واقعات سامنے آرہے ہیں ان کہ تسلسل نے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔آج جب میں اس موضوع پر لکھنے بیٹھی تو یقین مانیں قلم قرطاس اٹھاتے ہی میں نے واپس میز پر پٹخ دیا۔۔سمجھ نہیں آرہا کہ کہاں سے لاوں وہ الفاظ۔۔وہ تاثیر جو یہ معاشرہ سمجھ سکے۔میں شرمندہ ہوں خود کو اس معاشرے کا حصہ کہتے ہوئے جہاں ایک عورت کی عزت۔۔عورت تو چھوڑیں یہاں تو بچے بچیوں کی عزت محفوظ نہیں ہے۔آئے روز ایک نیا واقعہ۔۔افسوس و ہمدردی کے چند جملے۔۔۔اور بس خاموشی۔پھر سے اک نیا واقع اور پھر سے رسمی افسوس و ہمدردی کے چند جملے۔۔۔۔ اور وہی خاموشی۔مگر عمل درآمد،سزا ، نیتجہ،حکمت عملی نہ ہونے کے برابر ہے۔۔ہم میں سے اکثر کو تو اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ و شرم محسوس کرتے ہیں۔کیوں ؟ دراصل شرم نہیں ہمیں تو شرمندگی ہونی چاہیے کیونکہ ہم اس بڑھتی ہوئی درندگی کے خاموش تماشائی ہیں۔ہم نے خود پے اچھے انسان ہونے کا جو نقاب پہنا ہوا ہے میرے خیال میں اسے اتار پھینکنا چاہیے،آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی اپنی صورتوں کو دیکھنا چاہیے اور 
سوچنا چاہیے کہ ہم کسطرح کے انسان ہیں۔کیا دوسرے کی بیٹی ہمارے لئے معانی نہیں رکھتی ؟ قصورکی زینب ، مردان،خیرپور،فیصل آباد،جڑانوالہ،اوکاڑہ اور نجانے کتنے ہی پھول بے دردی سے کچلے جاچکے ہیں۔اور اب چیچہ وطنی کی نور فاطمہ جو محض 8 سال کی تھی۔اس ننھی کلی کا گینگ ریپ اور پھر زندہ جلا دیا جانا۔۔ذرا محسوس کیجئے یا کسی اپنے کو اس بچی کی جگہ رکھ کر سوچئے۔۔کیا گزری ہوگی اس پر ؟۔۔ان ماں باپ پر ؟جن کے سامنے جلا ہوا وہ کوئلہ لا کر رکھ دیا گیا کہ یہ ہے تمھاری بچی کے بقایات۔۔ان کیدرد کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے مگر اس درندگی کی روک تھام کے لئے آواز بلند کرنا ممکن ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی جبلت اور خواہش ایک حقیقت ہے۔لیکن انسان جانور بنا کر نہیں بھیجا گیا۔اس میں خیر و شر دونوں رجحانات پائے جاتے ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ آخر کیوں خیر سے زیادہ اس درندگی کی شرح بڑھتی جا رہی ہے ؟ ماہرین کا تو کہنا ہے کہ یہ درندگی ایک ذہنی عارضہ پیڈوفیلیا ہے۔اگر یہ بات مان لی جائیتو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں یہ عارضہ اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے ؟ اور اس کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات ہورہے ہیں ؟ ہمارا ایسا کون عمل ہے جو اس مرض کو ہوا دے رہا ہے ؟ یہاں کچھ سائنس دانوں کے یہ تجربات قابل غور ہیں کہ اگر بندروں کو بھی مستقل تشدد سے بھر پور مناظر دکھائیجاتیرہیں تو وہ ان میں بھی وحشیانہ جذبات کو انگیز کرنے کا باعث بنتے ہیں۔پھر انسانوں کی بستیوں میں تو کتنے ہی ایسے ذہنی مریض پھرتے ہیں جن کے اندر شر انگیز خیالات اور وحشیانہ جبلتیں چھپی ہوتی ہیں۔ کیا ایسے مریضوں کو میڈیا بری طرح بھڑکانے کا کام کر رہا ہے ؟۔ہم شعوری اور لا شعوری طور پر خود اپنے 
معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں ؟۔ماڈرن ازم کے نام پر بے راہ روی تیزی سے ہمارے معاشرے میں پھیل رہی ہے ؟۔مذہب اور اخلاقیات ایک فرسودہ اور دقیانوسی شے بنتی جارہی ہے؟ہر طرف خواہش کہ پجاری اور جبلتوں کے غلام پھیلتے جارہے ہیں۔۔آج کے معاشرے میں ہواس سب سے بڑی حقیقت ہے؟ پھر چاہے وہ کسی بھی پیمانے کی ہو؟،جسکو جیسے بھی ہو مٹانا ضروری ہے؟۔اور ان کا آسان شکار بچے بنتے ہیں کیونکہ ان تک رسائی آسان ہوتی ہے ؟۔ سمجھ نہیں آتا اصل مجرم کون ہے ؟ میڈیا ؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں؟ آپ ؟ میں ؟آخر کب تک یہ بھیڑے انسانی روپ میں یونہی دندناتے پھریں گے؟افسوس تو اس بات کا ہے جب انصاف کے بجائے ایسے واقعات سیاست کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔حکمران عدالتوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور عدالتیں کمزور شواہد کا بہانہ بناتی ہیں۔میں بحیثیت معاشرہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ ایسے مجرموں کو سرعام عبرت ناک سزا دیں۔سزا کا ایسا خوف پیدا کریں کہ مجرم ایسی درندگی کا سوچتے ہوئے بھی لرزے۔بچوں کی حفاظت کرنا والدین کا ہی نہیں ہم سب کا فرض ہے۔بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ افسوس ہمارا مستقبل آج درندگی کی گرفت میں ہے۔