حکمران اتحاد کو بدترین شکست


پاکستانی تاریخ میں چیر مین سینٹ کے سب سے کانٹے دار مقابلے کے بعدمحمد صادق سنجرانی نے مسلم لیگ (ن) کے چیر مین راجہ ظفر الحق کو بچھاڑ کراہم ترین عہدہ حاصل کر لیابعد ازاں پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈی والا نے بھی عثمان کاکڑ کو چاروں شانے چت کر دیا،پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)نے سینٹ انتخابات کے بعد پورا جتن کیا کہ ایساامیدوار ہو جسے دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں کسی ایک امیدوار پر متفق ہو جائیں ،سنیٹرز میں ہارس ٹریڈنگ جیسے الزامات ایک دوسرے پر بڑی حد تک لگائے گئے ،مسلم لیگ (ن) نے چیر مین سینٹ کے لئے پنجاب ہاؤس اسلام آباد کو تمام انتخابی سرگرمیوں کا محور بنائے رکھا دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی بھی سلیم مانڈی والا کو چیر مین بنانے پر کاربند تھی ،حالات کا دھارا دیکھ کر میاں نواز شریف نے آصف زرداری کی جانب پتہ پھینکا کہ اگر سابق چیر مین سینٹ رضا ربانی کو پیپلز پارٹی نامزد کر دے تو ہم اس کا ساتھ دیں گے تاہم آصف زرداری نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ایسی کوئی خواہش نہیں رکھتے، اسی دوران پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے پہلی مرتبہ جذبات سے ہٹ کر بہترین سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے اپنے 12ووٹ بلوچستان جا کر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے حوالے کر دئیے اور ساتھ اس بات کا بھی اعلان کر دیا کہ چیر مین سینٹ بلوچستان سے ہی ہونا چاہئے اگر ایسا نہ ہوا تو ہم کسی صورت پیپلز پارٹی کے ساتھ الحاق نہیں کریں گے،عمران خان کے اس فیصلے پر سیاست کے گرو اپنی بساط میں ناکام نظر آنے لگے تو سب سے پہلے پیپلز پارٹی نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے امیدوار صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کر دیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صادق سنجرانی اور انوار الحق کاکڑ کا نام تجویزکیا تھا جبکہ پیپلز پارٹی نے ڈپٹی چیر مین کے لئے سلیم مانڈی والا کو سامنے لائے،مسلم لیگ (ن)نے اتحادیوں سے طویل مشاورت کے بعد سینئر ترین مسلم لیگی راجہ ظفر الحق اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عثمان کاکڑ کو متحدہ اپوزیشن کے مقابلے میں میدان میں اتارااس سے قبل میر حاصل بزنجو،مشاہد حسین سید اور مشاہد اللہ کا نام گردش میں رہا،، پولنگ کے موقع پر آخری دم تک سسپنس اور تذبذب برقرار رہا،تاہم محمد صادق سنجرانی نے راجہ ظفر الحق کے مقابلے میں11زائد ووٹ (57)حاصل کر کے سینٹ کی چیرمین شپ حاصل کر لی راجہ ظفر الحق نے 46ووٹ حاصل کئے،ڈپٹی چیر مین سینٹ سلیم مانڈی والا نے 54ووٹ حاصل کئے،کراچی سے تعلق رکھنے والے سلیم مانڈی والا ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور مالی امور پر پوری دسترس رکھتے ہیں، دونوں منتخب چیر مین و ڈپٹی چیر مین نے اپنے اپنے عہدوں کاحلف بھی اٹھا لیا ہے، خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی اتحادی اور پانامہ کیس میں انتہائی متحرک جماعت اسلامی نے اپنی 
سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عین موقع پر اپنا ووٹ مسلم لیگ (ن)کی جھولی میں جا ڈالا جبکہ مولانا فضل الرحمان اپنے مطالبات نہ مانے جانے پر میاں نواز شریف سے خفا ہوئے جس پر وہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے اور اپنے ووٹ حکمران پارٹی کودینے کا اعلان کر دیامولانا ایک جانب نواز شریف سے ملتے تو دوسری جانب وہ آصف علی زرداری سے جا ملتے مولانا عبدالغفور حیدری نے مسلم لیگ کی حمایت کا الیکشن سے چند منٹ قبل کیا،ایک اجلاس کے بعد میاں نواز شریف نے ایک بار پھر کہا تھا کہ رضا ربانی ہر لحاظ سے بہترین امیدوار ہو سکتے ہیں انہوں نے اپنے اس حوالے سے اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں بھی لے لیا گر یہ چال مکمل طور پر ناکام ہوئی ،جبکہ آصف زرداری سلیم مانڈی والا کو بھی چیر مین دیکھنا چاہتے تھے مگر ساری بساط الٹ گئی،ووٹنگ سے ایک گھنٹہ قبل ایم کیو ایم بہادر آباد کے کنوئیر خالد مقبول صدیقی نے بھی خاموشی توڑتے ہوئے صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کر دیا ساتھ ہی انہوں نے سلیم مانڈی والا کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا،سینٹ الیشن کے بعد ایوان بالا میں مسلم لیگ اکثریتی جماعت بن گئی پہلے ان کے 18ارکان تھے نئے ارکان ملا کر ان کی تعداد33ہو گئی ،پی پی پی کے20،آزادارکان17،پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی ،ایم کیو ایم اور نیشنل پارٹی کے پانچ پانچ،جمیعت علمائے اسلام (ف)کے 4،جماعت اسلامی کے دو،اے این پی ،مسلم لیگ فنکشنل ،پی این پی مینگل کا ایک ایک رکن تھا،سینٹ کے کل 104ارکان میں سے اسحاق ڈار کے علاوہ باقی سب 103ارکان نے ایوان میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایانااہل ہونے والے نہال ہاشمی کی جگہ منتخب ہونے والے سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف نے بھی حلف اٹھایا ان نو منتخب ارکان سے حلف یعقوب ناصر نے صدارتی حکم پر لیاارکان کے حلف کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا ،نیب زدہ اور برطانیہ میں مقیم نو منتخب سینیٹر اسحاق ڈار گرفتاری کے ڈر سے پاکستان حلف اٹھانے نہ آئے اب ان کا کیس سپریم کورٹ میں نہ صرف چیلنج 
بلکہ عدالت اعظمیٰ نے انہیں طلب بھی کر لیا ہے ،دو بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے جو سبھی منظور ہو گئے،ٹھیک چار بجے پولنگ کے عمل کا آغازہوا سب سے پہلا ووٹ حافظ عبدالکریم اور آخری یعقوب ناصر نے کاسٹ کیا،تھرپارکر میں متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والی ہندو خاتون رتنی کرشنا کماری جسے پیپلز پارٹی نے سینیٹر منتخب کرایا ایوان میں آئیں تو ان کا تالیوں سے زبردست استقبال کیا گیا،اس اتحاد پر میاں شہبا شریف نے کہا ،زرداری عمران مل گئے ہیں اللہ کو منظور ہوا تو اگلے الیکشن میں ان کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے دونوں نے اپنے اہپنے صوبوں میں کچھ نہیں کیا ایک نے کراچی کو موہنجوردڑو اور دوسرے نے پشاور کو اندھیروں میں ڈبو ڈالا،وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا،وہ کونسی قوت ہے جس نے PPPاورPTIکو ایک کر دیا؟اب یہ سوال کون کرے گا؟مریم نواز نے کہا زرداری نے پس پردہ عمران سے ہاتھ ملایا یہ سب ڈرامے بازی ہے شطرنج کے مہرو تمہیں بدترین شکست ہوئی ہے،مشاہداللہ نے کہا ،ایک طرف پارلیمان کے رکھوالے اور دوسری طرف ہارس ٹریڈنگ کے کرتا دھرتا ہیں ان کے نام وہاں سے آئے جہاں سے آتے ہیں،خواجہ سعد رفیق کا کہا صادق سنجرانی کو کون جانتا ہے اسے غیر جمہوری لوگ سامنے لے کر آئے ہیں خواجہ سعد رفیق کو شاید علم نہیں کہ نو منتخب چیر مین میاں نواز شریف کے کوآرڈینیٹر بھی رہے ہیں،اس کامیابی کے بعدیہ بات شاید کسی کی سمجھ میں نہ آئے کہ مسلم لیگ (ن) پہلے تو پیپلز پارٹی کے امیدوار رضا ربانی کو امیدوار چیر مین سینٹ ماننے پر بھی تیار تھے اگر ان کا آصف زرداری کے ساتھ معاہدہ ہو جاتا تو کیا پھر ہارس ٹریڈنگ کا ذمہ دار بھی کوئی ہوتا؟نو منتخب چیرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی کا تعلق بلوچستان کے تاریخی علاقے چاغی سے ہے ان کے والد محمد آصف سنجرانی ضلع چاغی ضلع کونسل کے رکن ہیں ان کا بھای رازق سنجرانی سینڈیک میں ڈائریکٹر جبکہ دوسرا بھائی میر محمد سنجرانی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ء اللہ زہری کا مشیر تھا ،صادق سنجرانی کا عوامی سیاست سے تعلق بہت کم رہا ہے وہ ایک بزنس مین کے طور پر مشہور ہیں ان کا کاروبار بلوچستان کے علاوہ دو بئی میں بھی پھیلا ہوا ہے،پرویز مشرف کے ٹیک اوور کرنے سے قبل وہ میاں نواز شریف کے کوآرڈینیٹر تھے پھر سیاست سے کنارہ کشی کی اور دس سال بعد یوسف رضا گیلانی کے کوآرڈینٹر مقرر ہوئے اور پانچ سال اسی عہدے پر مکمل کئے نو منتخب چیر مین سینٹ کا آصف زرداری سے قریبی تعلق ہے وہ مجموعی طور پر8ویں اور جو بلوچستان سے منتخب ہونے والے پہلے چیر مین سینٹ ہیں ان سے قبل جسٹس حبیب اللہ خان اور غلام اسحاق خان (کے پی کے)،وسیم سجاد (پنجاب )،محمد میاں 
سومرو ،فاروق نائیک ،نیر بخاری اور رضا ربانی کا تعلق سندھ سے تھاسینٹ پر چار مرتبہ پیپلز پارٹی کا راج رہا ہے،چار مرتبہ پی پی پی ،ایک ایک دفعہ مسلم لیگ(ن)،مسلم لیگ (ق)اور آزاد چیر مین سینٹ رہے ہیں نواب زہری کی وزارت اعلیٰ کے بعد بلوچستان کی طرف سے یہ دوسرا بڑا اپ سیٹ ہے،راجہ ظفر الحق کا تعلق کہوٹہ کے نواحی علاقہ مٹور سے ہے سیاست کے علاوہ شعبہ وکالت سے وابستہ ہیں محمد خان جونیجو دور میں وفاقی وزیر رہے سابق صدر ضیاء الحق انہیں اپنی ٹیم کا اوپننگ بیٹسمین کہتے تھے،ایک سال مصر میں بطور سفیر تعینات رہے موتمر عالم اسلام کے مسلسل پانچویں مرتبہ سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں ،،نواز شریف کی جلا وطنی میں جاوید ہاشمی کوصدر بنانے پرناراض ہوئے انہی کی وجہ سے پارٹی میں چیر مین کا بے ضرر عہدہ تخلیق کر کے انہیں دیے دیاگیا،رضا ربانی پیپلز پارٹی کا بال شبہ اثاثہ ہیں بلاول بھٹو کی خواہش تھی کہ انہیں ہی دوبارہ چیر مین کے لئے منتخب کیا جائے مگر آصف زرداری ایسا نہیں چاہتے تھے جس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رضا ربانی کے لئے میں نے دوسرا بڑا پلان بنا رکھا ہے، اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی نئی صف بندی حکمران جماعت کے لئے عبرتناک شکست کا سبب بن چکی ہے ، اپوزیشن اتحاد کی کامیابی نے حکومتی اتحاد کو آگ بگولہ کر دیا، مسلم لیگ (ن)کی جانب سے فوری ری ایکشن آیا وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب اور وزیر مملکت داخلہ امور طلال چوہدری نے پریس کانفرنس میں اس جمہوری عمل پر شدید تنقید کی جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بیٹے نے پی ٹی آئی کے ایم این اے پر حامد الحق پر اشتعال میں آکر حملہ بھی کر دیا،ایک دن قبل تک چیر مین کے امیدوار کی آس میں رہنے والے میر حاصل بزنجو کہتے ہیں کس بات کی مبارکباد دوں؟ساری بلوچستان اسمبلی کو قیدی بنا لیا گیا ہے بس ایک ہی جان ہے اسے تم لے لو مجھے سینٹ میں بیٹھنے پر شرمندگی ہو رہی ہے(استعفیٰ دیں اور گھر جائیں) ،حاصل بزنجو نہ جانے یہ سب کسے مخاطب کر کے فرما رہے تھے کیا اسے جمہوریت کہتے ہیں ووٹوں کے تقدس کا راگ الاپنے والوں کو اب اس ووٹنگ پر اصل مسئلہ ہے کیا؟مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہاسینٹ میں جیت سے ثابت ہو گیا کہ اتحاد و اتفاق میں برکت ہے، سراج الحق صادق سنجرانی کی کامیابی کے بعد کہہ رہے ہیں کہ اس عمل سے چھوٹے صوبے کی محرومیاں دور ہوں گی کمال ہے چار بجے انہیں اس بات کا علم نہیں تھا؟واہ جماعت اسلامی یہی تضادات اس بہت بڑی مذہبی و سیاسی جماعت کی کسی بڑی کامیابی میں اصل رکاوٹ ہیں؟سابق چیر مین سینٹ رضا ربانی نے الواداعی خطاب میں نو منتخب چیر مین و ڈپٹی چیر مین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا اس عمل کو جمہوریت کی فتح قرار دیا پارلیمان کی بالادستی ہم سب کا مشن ہے ۔