سینیٹ کا الیکشن اور نومنتخب چیئرمین کا عہد


سینٹ الیکشن جس کے متعلق مختلف قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ ہونا بھی ہے کہ نہیں آج اللہ اللہ کرکے مکمل ہوگیا ۔چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین بھی منتخب ہوگئے مگر اس الیکشن نے بھی ہر بار کی طرح کئی سوال ادھورے چھوڑ دیے۔ سینٹ کے ہرالیکشن میں پیسہ چلنے کی باتیں منظر عام پر آتی رہی ہیں مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے اسی طرح یہ گرد بیٹھ جاتی ہے۔ ان الیکشن میں اٹھنے والے سوالوں کے جوابات نہ کبھی حکمران پارٹی نے دینا مناسب سمجھا اور نہ اپوزیشن نے۔ یہاں تک کے کبھی کسی عدلیہ نے بھی ازخود نوٹس نہیں لیا کہ ملک پاکستان کے اہم ستون میں بیٹھے ہوئے ووٹرز پر کیسے الزام عائد ہورہے ہیں ۔ پہلے توجنرل الیکشن میں عام ووٹر ز کے لیے سنا جاتا تھا کہ راتوں رات ووٹر بک گئے مگر اب تومنتخب رہنماوؤں کے متعلق سر عام چرچے ہوتے ہیں کہ سینٹ کے الیکشن میں ووٹ خریدے جارہے ہیں۔حالیہ سینٹ الیکشن میں اپوزیشن جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں نے میدان مارا۔ چیئرمین کے عہدے پر صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈی والا منتخب ہوئے۔نومنتخب چئیرمین کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔ جن کا مختصر تعارف کچھ یوں ہے ۔ صادق سنجرانی 14 اپریل 1978 کو بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم نوکنڈی میں 
حاصل کی اور پھر بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ان کے والد خان محمد آصف سنجرانی کا شمار علاقے کے قبائلی رہنماؤں میں ہوتا ہے اور وہ ان دنوں ضلع کونسل چاغی کے رکن ہیں۔ میر صادق سنجرانی پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں اور ان کے ایک بھائی اعجاز سنجرانی نواب ثناء اللہ زہری کے دور حکومت میں محکمہ ریونیو کے مشیر بنے۔حکومت کی تبدیلی کے باوجود وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا۔میر صادق سنجرانی کے ایک بھائی محمد رازق سنجرانی سینڈک پروجیکٹ کے ایم ڈی رہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نومنتخب چئیرمین 1998 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے کو آرڈینیٹر رہے چکے ہیں اور 2008 میں جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم پاکستان بنے تو ان کی جانب سے قائم کئے گئے شکایات سیل کے سربراہ کے عہدے پر کام کرچکے ہیں۔صادق سنجرانی نے حالیہ سینٹ الیکشن میں 3 مارچ 2018 کو بلوچستان سے آزاد حیثیت سے سینیٹ کا الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کر کے سینیٹر منتخب ہوئے۔صادق سنجرانی سینیٹ نے چئیرمین منتخب ہونے کے بعد ایوان بالا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایوان بالا میں سب کو ساتھ لیکر چلوں گا، کسی کے ساتھ کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہونے دونگا۔ میرے لئے سب برابر ہیں۔ بلوچستان اور پاکستان کی تعمیر وترقی کیلئے اپنا بھرپور کردارادا کرونگا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں سب سینئر سیاستدان ہیں سب کارروائی سمجھتے ہیں،ایوان کی کاررو ا ئی اچھے انداز میں چلائینگے کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ نو منتخب چیئرمین نے کہا کہ بلوچستان کے عوام عمران خان کے تہہ دل سے مشکور ہیں کہ انہوں نے بلوچستان کے عوام کو پارلیمان میں اہم مقام دلوایا۔ آپ نے مجھ سے جو توقعات وابستہ کیں ان پر انشاء اللہ پورا اتروں گا۔
حالیہ سینیٹ الیکشن کے بعد ایک سوال نے مجھے بہت سوچنے پر مجبور کیاکیونکہ کہ ہرطرف سے ایک آواز آرہی تھی کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے لیا جائے تاکہ ادھر سے احساس محرومی ختم ہوسکے۔ کیا بلوچستان سے پاکستان کی سیاست میں کوئی شخص مرکز میں نہیں آیا؟ظفراللہ جمالی وزیراعظم بنے وہ کس صوبے سے تھے؟ہاں اگر یہی بات احساس محرومی کے بجائے یوں کہا جاتا کہ تین صوبوں سے چیئرمین سینیٹ بن چکے ہیں اور اس بار بلوچستان کو یہ سیٹ دی جائے تو زیادہ بہتر لگتا۔کوئی بھی عہدہ صدر، وزیراعظم، سینیٹ کا چیئرمین، سپیکر ، آرمی چیف ، چیف جسٹس یا اور کوئی کسی ایک صوبے کی نمائندگی کے لیے نہیں ہوتا بلکہ یہ پورے پاکستان کی علامت ہوتا ہے۔ان کے فرائض کسی صوبے ، شہر یا گاؤں کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے یکساں ہوتے ہیں کیونکہ ہم جس مذہب سے ہیں اس کی نظر میں سب برابر ہیں۔ پھر ہم کیوں ایسی باتوں کو ہوا دیتے ہیں جس سے محبت کی بجائے نفرت پیدا ہو۔ خدارا ایسی باتیں نہ کریں جس سے ملک میں افراتفری پھیلے۔ پاکستان ہم سب کا ہے ۔اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ پہلے آپس کی لڑائی سے ہم اپنے ملک کے دوٹکڑے کرچکے ہیں اور مزید پاکستان کی تقسیم ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔ سیاست واحد کھیل ہے جس میں صوبائیت کو ہوا دی جاتی ہے اور کسی میدان میں کسی بھی عہدے پر کسی بھی صوبے سے تعینات ہوجائے جب کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔ 
پاکستان کسی ایک صوبے کا نام نہیں بلکہ تمام صوبوں کانام پاکستان ہے اورپارلیمنٹ سے لیکر تمام ادارے پاکستان کے ہیں۔ اس لیے کوئی غلط افواہیں پھیلا کرپاکستان کا امن تباہ نہ کرے۔