’’ حکمران جماعت ،پی ٹی آئی میں اختلافات زورپکڑنے لگے‘‘


جنرل الیکشن سے قبل سیاسی پارٹیوں میں اوتارچڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں کچھ لوگ ٹکٹوں کے حصول کیلئے ایک پارٹی کو چھوڑکر دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں اور کچھ لوگ ٹکٹ نہ ملنے پرناراض ہوکر پارٹی کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ایسی ہی کچھ صو رتحال ضلع قصورمیں حکمران جماعت اور پی ٹی آئی کے اندر دیکھنے میں نظرآرہی ہے۔حالیہ ہونیوالی مردم شماری میں ضلع قصور کی قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دونشستیں کم ہوکر 1997ء کی پوزین بحال ہوگئی ہے ۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 140اورصوبائی اسمبلی 179-178کی نشستیں ختم ہونے سے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے رہنما ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر دوسرے حلقوں سے پارٹی کے ٹکٹ کے حصول کیلئے سرگرم عمل ہیں۔حلقہ این اے140سے حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی ممبرقومی اسمبلی ملک رشیداحمدخاں اور دوسری طرف اسی حلقہ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار سابق وزیرخارجہ میاں خورشیدمحمودقاصوری بھی اسی حلقہ سے آؤٹ ہوگئے ہیں جبکہ پی پی 179-178سے کامیاب ہونیوالے حکمران جماعت کے پارلیمانی سیکرٹری ملک احمدسعیدخاں یا پنجاب حکومت کے ترجمان ملک محمداحمدخاں دونوں میں سے کسی ایک کو اپنی نشست سے ہاتھ دھونا پڑیگا۔حلقہ این اے 140کی جونئی پوزیشن بنے گی اس میں پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ممبرقومی اسمبلی رانا محمداسحاق خاں اور ملک 
رشیداحمدخاں اندرون خانہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے بھرپورکوشش کررہے ہیں حالانکہ رانا محمداسحاق خاں کا اس حلقہ سے کوئی تعلق نہ ہے لیکن پھر بھی وہ نئی حلقہ بندی کے تحت پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے کارنرمیٹنگیں کرکے حکمران جماعت کے قائدین کویہ تاثردے رہے ہیں کہ اس حلقہ میں ان کا اثررسوخ زیادہ ہے جبکہ دوسری جانب ملک رشید احمدخاں کورانا محمداسحاق خاں کی بات پسندنہیں آرہی اور وہ ان سے اندرون خانہ سخت ناراض ہیں کہ رانا فیملی ان کو حلقہ کی سیاست سے آؤٹ کرکے اپنا قبضہ جمانا چاہتی ہے ۔سابق صدر پرویزمشرف کے دورمیں جب میاں نوازشریف اور ان کی فیملی کو ملک سے باہر بھیج دیاگیاتھ توملک رشیداحمدخاں اور صوبائی حکومت کے ترجمان ملک محمداحمدخاں شریف فیملی کاساتھ چھوڑ کر (ق)لیگ میں شامل ہوکر پرویزمشرف کیمپ میں چلے گئے تھے۔ضلع قصور کی نئی قومی اسمبلی کی حلقہ بندی سے رانا فیملی کو اس حلقہ سے ٹکٹ ملنے کا چانس اسلئے زیادہ ہے کہ ملک فیملی کی نسبت رانا فیملی نوازشریف کے زیادہ قریب ہے ۔ٹکٹ سے محروم ہونے پر عین ممکن ہے کہ اندرون خانہ ملک رشیداحمدخاں اپنے حلیف کو ہرانے کیلئے اندرون خانہ بھرپورکوشش کرکے مسلم لیگ (ن)کویہ باو ر کرائیں گے کہ آپ نے پارٹی 
ٹکٹ دیتے وقت فیصلہ غلط کیاتھاجبکہ 2008ء کے انتخابات میں پی پی پی کے پلیٹ فارم سے این اے 140سے کامیابی حاصل کرنیوالے سابق وزیرخارجہ سردار آصف احمدعلی پارٹی پالیسیوں سے اختلاف کرکے اپنی نشست سے استعفیٰ دیکر پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے تھے اور ان کو 2013ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنے کی پوری امیدتھی تاہم میاں خورشید محمودقصوری نے ان کو ٹکٹ سے محروم کردیا جس کا سردارآصف احمدعلی کوبڑا رنج تھا سردارآصف احمدعلی نے میاں خورشیدمحمود قصوری کے ساتھ ہاتھ کرنے اوراپنا بدلہ لینے کیلئے دوبارہ پھر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیارکرکے قصورسٹی سے پارٹی تکٹ کیلئے مرکزی قائدین سے وعدہ بھی لیا اور اس سلسلے میں سردارآصف احمدعلی نے 16فروری کے روزقصورشہرمیں ایک بہت بڑا عوامی جلسہ عام بھی کیا جس میں پارٹی کی مرکزی اورصوبائی قائدین نے شرکت کی تاہم پارٹی کی ضلعی ومقامی قیادت و 
کارکن بھی بڑی اکثریت نے اس وجہ سے شرکت نہ کی کہ سردار آصف احمدعلی نے قصور شہر سے صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے (عطاء الرحمن بگے والے) جس شخص کو نامزدکیاہے وہ نہ ہی تو پارٹی ورکرہے اورنہ ہی عوام کی ان کو حمایت حاصل ہوسکے گی۔سردار آصف احمد علی نے الیکشن کے اخراجات کیلئے اے ٹی ایم مشین تلاش کی ہے ۔میاں خورشیدمحمودقصوری کے بھائی بیرسٹر بختیارمحمودقصوری چند روز قبل ایک اخباری بیان میں یہ کہہ چکے ہیں کہ سردارآصف احمدعلی کو کسی صورت میں بھی پارٹی ٹکٹ نہیں لینے دینگے۔پی ٹی آئی اورحکمران جماعت کے رہنما کے اندر جو اختلافات روزبروز زورپکڑرہے ہیں وہ انتخابات میں پارٹیوں کیلئے شدید نقصان دہ ثابت ہونگے۔ پنجاب کو فتح کرنے کی دعویدر جماعت پیپلزپارٹی کے پاس ماسوائے قصورکے قومی اسمبلی کے حلقہ کے علاوہ باقی قومی و صوبائیہ اسمبلی کی نشستوں کیلئے ایک بھی مضبوط امیدوارنہیں ہے جبکہ جماعت اسلامی بھی متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کیلئے ضلعی سطح پر پارٹی اجلاس اور کارنرمیٹنگیں کررہی ہے۔پی پی پی کی نسبت اسکے پاس ضلع بھرمیں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کیلئے باصلاحیت امیدوار موجود ہیں تاہم برادری ازم اور دھڑہ بندیوں کیوجہ سے اصل مقابلہ پی ٹی آئی اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہوگا۔